ممبئی ، 26/ستمبر (ایس او نیوز /ایجنسی) ممبئی کی ایک میٹروپولیٹن مجسٹریٹ عدالت نے جمعرات کو ہتک عزت کے مقدمے میں شیو سینا (یو بی ٹی) کے راجیہ سبھا ایم پی سنجے راؤت کو مجرم قرار دیا۔ یہ مقدمہ بی جے پی کے سابق ایم پی کریٹ سومیا کی اہلیہ ڈاکٹر میدھا سومیا نے دائر کیا تھا۔ عدالت نے سنجے راؤت کو 15 دن قید کی سزا سنائی اور 25 ہزار روپے جرمانہ عائد کیا، جو معاوضے کے طور پر وصول کیا جائے گا۔
سنجے راؤت کو تعزیرات ہند کی دفعہ 500 کے تحت سزا دی گئی ہے۔ ممبئی کی روئیا کالج میں آرگینک کیمسٹری کی پروفیسر میدھا سومیا نے راؤت کے خلاف دفعہ 499 (کسی طرح کا الزام لگانا یا شائع کرنا) اور 500 (ہتک عزتی) کے تحت کارروائی کا مطالبہ کیا تھا۔ واضح ہو کہ سنجے راؤت نے ان پر اور ان کے این جی او 'یوا پرتشٹھان' پر 100 کروڑ روپے کے بیت الخلا گھوٹالے کا الزام لگایا تھا۔
حالانکہ نیوز پورٹل ’آج تک‘ پر شائع رپورٹ کے مطابق سنجے راؤت کے وکیل اور ان کے بھائی سنیل راؤت نے کہا کہ انہوں نے ضمانت کی عرضی داخل کی ہے اور مجسٹریٹ عدالت کے حکم کے خلاف سیشن کورٹ میں اپیل کریں گے۔ وہیں راؤت کے وکیل کی درخواست پر مجسٹریٹ عدالت نے سنجے راؤت کی سزا 30 دنوں کے لیے معطل کر دی ہے۔ رسمیات پوری کرنے اور 15000 کا مچلکہ بھرنے کے بعد راؤت عدالت سے باہر آئیں گے۔
عدالت کے ذریعہ قصوروار ٹھہرائے جانے کے بعد سنجے راؤت کا بھی اس معاملے پر رد عمل سامنے آیا ہے۔ شیو سینا رہنما نے کہا کہ میں عدالت کے فیصلے کی عزت کرتا ہوں لیکن یقین نہیں کر سکتا کہ انہوں نے ایسا حکم دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس ملک میں انصاف کی امید کیسے کر سکتے ہیں جہاں وزیر اعظم گنیش اُتسو کے کے لیے چیف جسٹس آف انڈیا کے گھر جاتے ہیں اور لڈو کھاتے ہیں۔
قابل ذکر ہے کہ سومیا کے ذریعہ وکیل وویکانند گپتا کے توسط سے درج شکایت میں کہا گیا ہے کہ 15 اپریل 2022 اور اس کے بعد سنجے راؤت نے ان کے خلاف میڈیا میں بدنیتی پر مبنی اور غیر مناسب بیان دیے۔ ان بیانات کو الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا کے ذریعہ بڑے پیمانے پر عام لوگوں کے لیے شائع اور نشر کیا گیا۔ شکایت میں کہا گیا ہے کہ درج بالا بدنیتی پر مبنی بیان اسی دن سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر وائرل بھی ہوئے اور بڑے پیمانے پر لوگوں نے اسے پڑھا اور سنا۔ جس سے ان کی شبیہ خراب ہوئی۔
الزامات پر بی جے پی رہنما کریٹ سومیا نے اس وقت کہا تھا کہ اگر سنجے راؤت اس گھوٹالے کے سلسلے میں کوئی ثبوت دیں گے تو ہی وہ اس کا جواب دیں گے۔